???? *بسم الله الرحمن الرحيم*
???? *ہر دن ایک حدیث کے ساتھ*
٢٩ ربیع الأول ١٤٤٨ هـ
12 ستمبر 2026 ہفتہ
????*سلسلہ سیرت نبوی ﷺ*
*???? Seerah of the Prophet Muhammad (ﷺ) Series*
*مکہ والے بھی نبی ﷺ کے اعلی نسب کا اعتراف کرتے تھے*
*The people of Makkah also acknowledged the noble lineage of the Prophet (ﷺ)*
???? أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَكَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ، فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ، فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ، ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ، فَقُلْتُ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا، فَقَالَ: أَدْنُوهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ، فَوَاللَّهِ لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ، ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ، أَنْ قَالَ: كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ ..... فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا. [صحیح البخاری:7]
???? عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ہرقل نے انہیں قریش کے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ اپنے پاس بلایا۔ وہ لوگ (ملک) شام تجارت کے لیے گئے ہوئے تھے، اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان اور کفار قریش کے ساتھ ایک مقررہ مدت کا معاہدہ (صلح حدیبیہ) کر رکھا تھا۔ جب وہ ایلیاء پہنچے تو ہرقل نے انہیں اپنے دربار میں بلایا، جبکہ اس کے اردگرد روم کے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔
• پھر اس نے انہیں اور اپنے ترجمان کو بلایا اور کہا: *تم میں سے اس شخص سے نسب کے اعتبار سے زیادہ قریب کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟* ابو سفیان نے کہا: میں ان سب سے زیادہ قریب نسب والا ہوں۔
• ہرقل نے کہا: اسے میرے قریب کرو اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کر کے اس کے پیچھے کھڑا کر دو۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا: *ان سے کہو کہ میں اس شخص کے بارے میں اس سے سوال کروں گا، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اسے جھوٹا قرار دینا۔*
• (ابو سفیان کہتے ہیں) اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میرے جھوٹ کو مشہور کریں گے تو میں اس کے بارے میں جھوٹ بول دیتا۔
• *پھر اس نے سب سے پہلے مجھ سے اس بارے میں پوچھا کہ تم لوگوں میں اس کا نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں صاحبِ نسب ہیں۔* .....
• تو اس نے ترجمان سے کہا: اسے بتاؤ کہ میں نے تم سے اس کے نسب کے بارے میں پوچھا تھا، تو تم نے بتایا کہ وہ تم لوگوں میں صاحبِ نسب ہے، اور اسی طرح رسول اپنی قوم کے صاحبِ نسب لوگوں میں مبعوث کیے جاتے ہیں۔
????It is narrated on the authority of Abdullah ibn Abbas (رضی اللہ عنہما) that Abu Sufyan ibn Harb (رضی اللہ عنہ) told him that Heraclius had sent for him when he was with a caravan of Quraysh. They had gone to Syria (Sham) for trade, and this was during the period when the Messenger of Allah (ﷺ) had a truce for a fixed term with Abu Sufyan and the disbelievers of Quraysh (the Treaty of Hudaybiyyah). When they reached Ilya (Jerusalem), Heraclius summoned them to his court, with the great nobles of Rome gathered around him.
•He then called for them and for his interpreter, and said: *Which of you is most closely related by lineage to this man who claims to be a Prophet?*Abu Sufyan (رضی اللہ عنہ) said: I replied that I was the nearest of them all in lineage to him.
•Heraclius said: Bring him close to me, and bring his companions close as well, and have them stand behind him.Then he said to his interpreter: Tell them that I am going to ask this man about that person; if he lies to me, you are to declare him a liar.
•(Abu Sufyan said): By Allah, had I not been afraid that my companions would report my lie, I would have lied about him.
•Then the first thing he asked me was: What is his lineage among you?" I said: *He is of noble lineage among us.*.....
•Then he said to the interpreter: *Tell him that I asked you about his lineage, and you told me that he is of noble lineage among you and indeed, Messengers are sent from among the noble lineages of their people.*